اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے قبیلے ایزدی کی ایک عورت کہ جو دھشتگرد اور درندہ قوم داعش کے ہاتھوں اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئی نے اپنے اوپر بیتی روداد سنائی۔
نیوز چینل یورو نیوز نے اس ایزدی خاتون کہ جس کا نام عمشہ ہے کی داستان کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عمشہ کو دھشتگردوں نے صوبہ نینوا کے علاقے سنجار سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
عمشہ کا کہنا تھا کہ ایزدی خاندان کی جتنی بھی عورتیں داعش نے اغوا کی ان میں سے ہر ایک کو داعش کے دس مردوں کے درمیان تقسیم کر دیا گیا جس کے بعد وہ باری باری اس کے ساتھ ناجائز فعل انجام دیتے تھے۔ اور آخرکار وہ ۱۰ یا ۱۲ ڈالر میں اسے بیچ دیتے تھےْ
عمشہ نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئیے کہا: کون ہے جو اس وحشیانہ کاموں کو جائز سمجھتا ہے؟ کیا خدا ان کاموں پر راضی ہے؟ ایک عورت کے لیے شرمناک ہے کہ وہ ایک مرد کے ذریعے مورد تجاوز قرار پائے چہ جائیکہ دس مردوں کے ذریعے۔
عمشہ نے دھشتگرد ٹولے داعش کے بارے میں کہا: یہ لوگ حیوان ہیں۔۔۔ انسان نہیں ہیں۔
اس نے یہ بتاتے ہوئے کہ وہ آخر کار چند شیعوں کی مدد سے داعشیوں کے چنگل سے خود کو بچانے میں کامیاب ہوئی کہا: میں ان کے وحیشانہ کاموں کو کبھی بھی بھول نہیں سکتی اور ہمیشہ دھشت کھاتی ہوں۔
یورو نیوز نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام باتیں اس عورت کی زبانی ہیں جو اس نیوز چینل نے منعکس کی ہیں۔
واضح رہے کہ دھشتگرد ٹولے داعش نے عراق کے شہر موصل پر حملہ کر کے گزشتہ چند ماہ سے اس شہر کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے اور اس علاقے میں رہنے والے غیر مسلم قبیلے ایزدی کی سیکڑوں عورتوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ ناجائز فعل انجام دے رہے ہیں جبکہ اس کے بعد انہیں کنیزیں بنا کر عراق و شام میں بیچ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲